لاہور گیریژن یونیورسٹی کا شعبۂ اُردو   یونیورسٹی کے اُن شعبوں میں شمار ہوتا ہے جس میں یونیورسٹی کے آغاز 2010ء ہی سے ایم اے اور ایم فل کی تدریس کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن پنجاب سے منظور ہونے کے بعد لاہور گیریژن یونیورسٹی نے نئی اُڑان بھری۔ 2012ء میں شعبہ اُردو نے ایم فل اور میں پی ایچ ڈی کی تدریس کا آغاز نئے ولولے اور عزم کے ساتھ کیا۔ تب سے 2021ء کے اختتام تک شعبہ اُردو کم و بیش 240 اسکالرز کو ایم فل مکمل کرا چکا ہے، جب کہ پی ایچ ڈی میں 91 اسکالروں کا داخلہ ہوچکا ہے۔ ان میں سے بیش تر اپنے مقالے مکمل کر کے جمع کرا چکے ہیں۔ 2018ء  میں شعبۂ اُردو نے غیر ملکی طالب علموں کے لیے اُردو زبان میں سرٹیفیکیٹ اور ڈپلوما کورسوں کا بھی آغاز کر دیا جو اب تک کامیابی کے ساتھ جاری ہیں۔ اسی کے ساتھ دفتری زبانِ اُردو کا کورس بھی شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد اُردو کو دفتری زبان کے طور پر نافذ کرنے کی غرض سے افرادی قوت تیار کرنے میں مدد دے کر اُردو کی ترویج و ترقّی میں بھرپور کردار اداکرنا ہے۔

لاہور گیریژن یونیورسٹی کا عزم ہے کہ تدریس، تحقیق، ایجادات اور دیگر خدمات میں جدید ترین تحقیق سے فائدہ اٹھا کر اپنے طالبِ علموں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ یونیورسٹی کا شعبۂ اُردو بھی اس عزم کے ساتھ اپنی تدریسی و تحقیقی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے شعبے نے 2017ء میں ایک تحقیقی و علمی جریدے”ا نوارِ تحقیق” کا آغاز کیا جس کے اب تک بیس شمارے شائع ہوچکے ہیں۔ ان میں چار خصوصی اشاعتیں بھی شامل ہیں۔

طالبِ علموں کی ذہنی و علمی نشو و نُما کے لیے بھی شعبۂ اُردو مختلف ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کا انعقاد کرتا رہتا ہے۔ اس جہت میں اب تک شعبۂ اُردو کے اہتمام سے چھے قومی و بین الاقوامی کانفرنسیں، اُردو تحقیق پر پانچ ورکشاپیں ، مختلف توسیعی لیکچر اور اقبالیات کی ترویج و اشاعت کے حوالے سے یادگار تقریبات شامل ہیں۔ علاوہ ازیں شعبے میں مختلف مجالس قائم ہیں جن میں “اُردو مجلسِ مباحث”، “اُردو ڈرامیٹک کلب” شامل ہیں۔ یہ مجالس طلبہ و طالبات کی تخلیقی صلاحیتوں اور فنی صلاحیتوں کو جلا بخشنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں ہیں ان مجالس کے تحت اب تک کی کوئی پروگرام و ار مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔ طالبِ علموں کی ذہنی نشونما کے ساتھ ساتھ اُن کی تخلیقی صلاحیتوں کی آب یاری کے لیے “العلم” کے نام سے ایک سالانہ تخلیقی رسالہ بھی شروع کیا گیا جو 2014ء سے اب تک کام یابی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔